رنگ میں سادہ مزاجی کا بھرم تجھ سے ہے
سنگ میں زحمتِ تخلیقِ صنم تجھ سے ہے
تجھ سے ہے ، یوں جو فراواں ہے ، وفا کی دولت
یہ جو اندیشۂ جاں اتنا ہے کم، تجھ سے ہے
میں الگ ہو کے لکھوں تیری کہانی کیسے
سنگ میں زحمتِ تخلیقِ صنم تجھ سے ہے
تجھ سے ہے ، یوں جو فراواں ہے ، وفا کی دولت
یہ جو اندیشۂ جاں اتنا ہے کم، تجھ سے ہے
میں الگ ہو کے لکھوں تیری کہانی کیسے
میرا فن ، میرا سخن ، میرا قلم تجھ سے ہے
آخری بار ملو
آخری بار ملو ایسے کہ جلتے ہوئے دل
راکھ ہو جائیں کوئی اور تقاضہ نہ کریں
چاک ِ وعدہ نہ سلے زخم ِ تمنا نہ کھلے
سانس ہموار رہے شمع کی لو تک نہ ہلے
باتیں بس اتنی کہ لمحے انہیں آ کر گن جائیں
آنکھ اٹھائے کوئی امید تو آنکھیں چھن جائیں
اس ملاقات کا اس بار کوئی وہم نہیں
جس سے اک اور ملاقات کی صورت نکلے
اب نہ ہیجان و جنوں کا نہ حکایات کا وقت
اب نہ تجدید وفا کا نہ شکایات کا وقت
لٹ گئی شہر ِ ِ حوادث میں متاع الفاظ
اب جو کہنا ہے تو کیسے کوئی نوحہ کہیے
آج تک تم سے رگ ِ جاں کے کئی رشتے تھے
کل سے جو ہوگا اسے کون سا رشتہ کہیے
پھر نہ دہکیں گے کبھی عارض و رخسار ملو
ماتمی ہیں دم ِ رخصت در و دیوار ملو
پھر نہ ہم ہوں گے نہ اقرار نہ انکار ملو
آخری بار ملو
میرے زخموں سے ، مری راکھ سے تصدیق کرو
کہ مسیحا نفَس و شعلہ جبیں تھاکوئی
کہ مسیحا نفَس و شعلہ جبیں تھاکوئی
ما سوا، وَہم جہاں ، ذکر ِ خدا، وہم جہاں
ہاں اُسی ذہن میں ،عرفان و یقیں تھا کوئی
ہاں اُسی ذہن میں ،عرفان و یقیں تھا کوئی
شاعرو ، نغمہ گرو ، سنگ تراشو ، دیکھو
اس سے مِل لو تو بتانا کہ حسیں تھا کوئی
اس سے مِل لو تو بتانا کہ حسیں تھا کوئی
بہ نام ِ لیل و نہار