Allah’s mercy – اللہ تعالی کی رحمتیں

ایک حدیث قدسی کا مفہوم ہے کہ اللہ تعالی نے فرمایا ‘ جب میں نے تخلیق کا ارادہ کیا تو سب سے پہلی اپنی صفت ِ  رحمت کو اپنی تمام صفات پر غالب کر لیا
ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ جب اللہ تعالٰی نے اپنا تعارف کروانا چا ہا تو کیسے کیا؟

 بسم اللہ کے بعد خود کو کس نام سے پکارا؟  کیا الحی والقیوم کہا؟  نہیں،    سب سے پہلے خود کو الرحمان الرحیم کہا۔  جب سورہ فاتحہ کا آغاز اپنے تعارف سے کیا تو اپنے  کون سے اسم  ِگرامی بیان کیے؟  وہاں بھی خود کو الرحمان الرحیم  ہی کہا۔ 

اس سے کیا یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ اللہ تعالی کو اپنی صفت رحمت کا ذکر اپنی دوسری سب صفات سےذیادہ عزیز ہے؟

اکثر لوگ الرحمان اور الرحیم کو ایک ہی معنی میں لیتے ہیں۔ لیکن مفسرین نے کئی  طرح  سے تفاسیر بیان کی ہیں۔ مثلا  ً تفسیر  ِ ابن  ِ کثیر  میں آیا کہ   الرحمان کا اسم   اللہ تعالی کی  اس رحمت  کا مظہر ہے  جو کُل  ِ مخلوْْْق    (یعنی  ساری کا ینات) کے لیٗے ہے۔  جبکہ  الرحیم  کا  اسم  اس رحمت ِ  خاص  کےلئے  ہے جو صاحبان    ِ  ایمان  کے لیے ہے اور ہوگی۔

اب ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ اگر اللہ تعالٰی کو اپنے یہ اسم مبارک اتنے پسند ہیں تو کیا یہ ہماری شکر گزاری کا حق نہ ہو گا کہ ہم بھی اس کی رحمتوں کا ذکر زیادہ سے زیادہ کریں؟   سچ تو یہ ہے کہ ہم  کتنا بھی اس کی رحمتوں کا ، اسکی نعمتوں کاشکر ادا کریں  ،اس بات سے عاجز ہیں کہ شکرانے کا حق ادا کر سکیں۔

Leave a Reply