عِز و شرف کی ہر منزل پہ سب سے بالا آپ ﷺ ہیں
اللہ تعالی کو یہ کیسے قبول ہو سکتا تھا کہ کوئی بھی مخلوق یہ گمان کر سکے کہ اللہ کے حبیب ﷺ عزت و شرف میں کسی سے کم ہو سکتے ہیں
مثلاً کہیں فرشتوں یہ گمان کرتے کہ ہم تو نور سے بنے ہیں اور گناہ کر ہی نہیں سکتے، جبکہ حبیب ِ خدا اولاد ِ آدم میں سے ہیں اوردوسرے انسانوں کی طرح جسدِ خا کی میں ظہور پذیر ہوئے، تو کیا نعوذ با اللہ ہم ان سے بہتر ہیں؟
مگر اللہ تعالی نے اپنے حبیب ﷺ کے ختمی مر تبت ہونے میں ایسے کسی گمان کی گنجا ئیش رہنے ہی نہیں دی۔
اول تو یہ کہ اپنے حبیب کے نور کہ سب سے پہلے خلق کیا۔ پھر اس نور کے بعد دوسرے انوار پیدہ کئے۔ اور عام مخلوق تو کیا، انبیأ کرام میں بھی آپ ﷺ کو سب پر فضیلت دی۔ چناچہ آپ ﷺ کا ارشاد ِ مبارک ہو۱ کہ ’ میں اس وقت بھی نبی تھا ،جب کہ آدم ابھی مٹی اور پانی کے درمیان تھے ‘۔
پھر جب فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم ؑ کو سجدہ ٔ تعظیمی کریں تو کم ازکم اتنا واضح ہو گیا کہ آدم ؑ یا انکی نسل میں کوئی ایسی عزت والی ہستی ہے جسکی یہ تعظیم کی جا رہی ہے۔
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ شب ِ معراج کی مبارک ساعتوں میں ہمیشہ ہمیشہ کیلئیے آپ کی عظمت کُل ِ مخلوق سے زیادہ جتا دی ۔ وہ روایت تو سب نے سنی ہے کہ اس شب کے بے مثال سفر میں جب بارگاہ ِ الٰہی کی قربتو ں کی منزلیں آیئں تو ایک خاص حد تک پہنچ کر حضرت جبریئل ِ امین جو مقرب ترین فرشتے ہیں پکار اٹھے کہ بس ، اس سے آگے اگر ذرا بھی جا ؤں تو میرے پر جل جا یئں ! لیکن اللہ تعا لیٰ نے اپنے حبیبﷺ کو یہ عظمت عطا فرمائی کہ وہ اس سے آگے بڑھے، بارگاہ ِ الٰہی میں حاضر ہوئے ااور دیدار ِ الٰہی سے مشرف ہوئے۔
پھر اس سے آگے وہ گھڑی بھی آئی جسےآپ ﷺ کے شرف ِ بندگی کی انتہا کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ روایت میں ہے کہ جب اللہ تعالی کی طرف سے اپنے حبیب کو بہت کچھ عطا ہو چکا تو اللہ تعالی نے پوچھا کہ اب آ پ بتا یے آپ کی چاہت کیا ہے؟ گویا ‘مانگیے کیا مانگتے ہیں’ اب اس پر جو جواب آپ نے دیا بس وہ آپ ہی کی عظمتوں کا حصہ ہے۔ آپ نے جو فرمایا اس کا مفہوم تھا کہ ’اے میر ے رب میں نے ساری زندگی ، ہر وقت یہ کہا کہ آپ میرے رب ہیں، میری یہ تمنا ہے کہ ایک دفعہ آپ بھی یہ کہہ دیں کہ میں آپ کا عبد (بندہ) ہوں‘۔
االلہ اللہ، اب انسانیت اس سے زیادہ کس بات پر فخرکرے کہ اس گھڑی میں ، جب آپ ﷺ کچھ بھی مانگ سکتے تھے ، آپ ﷺ نے اللہ کے سامنے اپنے عجزِ بندگی کو ہی سب سے بڑا شر ف جانا۔ اللہ کو بھی یہ ادا ئے بندگی ایسی پسند آئی کہ اسکے بعد جب آیات ِ قرانی میں آپکی معراج کا ذکر کیا آپ کو اپنے عبد کے نام سے ہی پکارا۔
اقبال ؒ کا کیا خوب مصرہ ہے : مقامِ بندگی دے کر نہ لوں شانِ خداوندی
اب سیرت ِ پاک ﷺ کا دوسرا پہلو دیکھئے۔ جب ہم عام انسان آپ ﷺ کی عظمتوں کے ایسے بیان سنتے ہیں تو کوئی دشمن ِ ایمان یہ اعتراض کر سکتا تھا کہ اگر آپ ﷺ اس قدر اعلیٰ مقام پر فائز ہیں جہاں نورانی فر شتے بھی نہ پہنچ سکیں تو پھر اللہ کے حبیب ﷺ عام انسانوں کے مسائل کو، ان کی تکالیف کو، ان کے دکھ درد کو، ان کی روز مرہ کی آزمائیشوں کو کیسے جان سکتے ہیں؟ وہ عام انسانوں کے مسائل پر کیسے بات کر سکتے ہیں؟ مگر سچ تو یہ ہے وہ ایک انسان کی حیثیت سے بھی ناقابلِ یقین بلندیوں پر نظر آتے ہیں۔ انسانی زندگی کی وہ کو نسی آزمائیش ہے ، کون سی تکلیف ہے جو آپ نے کمال ِ صبر و رضا سے برداشت نہ کی ہو۔ عام زندگی کی محنت و مشقت ہو، یا عبادتیں ہوں ، ریاضتیں ہوں، دشمنوں کی جانب سے ذہنی اور جسمانی اذییتں ملتی ہوں، سوشل بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑ جائے یا راہ ِ حق میں جہاد اور ہجرت کے مصائب برداشت کرنے پڑ جا یئں، غرض یہ کہ انسانی زندگی کی کوئی بھی آزمائیش ہو، ہر مقام پر وہ ﷺ فکر و عمل میں سب سے آگے نظر آتے ہیں۔ اور تمام تر سختیاں اور تلخیاں برداشت کرنے کے باوجو د اپنوں یا پرائیوں ، کسی کے لیے بھی آپ رحمت ِ دوعالم کی محبت و شفقت میں کبھی کچھ کمی نہ آئی۔ سچ تو یہ ہے کہ ایک انسان کے طور پربھی ایسی مکمل، بھرپور اورنہایت خوبصورت شخصیت نہ ہو ئی ہے نہ ہو گی۔
